دنیا پرستی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - دنیا داری، دنیا کی حرص و ہوس میں مبتلا ہونا۔ "لامذہب آدمی کو کوئی اچھا نہیں سمجھتا خیالات چاہے جو ہوں لیکن دنیا پرستی اور ظاہر پرستی بھی کسی قدر ضرور ہے۔"      ( ١٨٨٠ء، فسانۂ آزاد، ٣٢٢:١ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'دنیا' کے ساتھ فارسی مصدر 'پرستیدن' سے فعل امر 'پرست' لگا کر آخر پر 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگائی گئی ہے اردو میں ١٨٨٠ء کو "فسانہ آزاد" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دنیا داری، دنیا کی حرص و ہوس میں مبتلا ہونا۔ "لامذہب آدمی کو کوئی اچھا نہیں سمجھتا خیالات چاہے جو ہوں لیکن دنیا پرستی اور ظاہر پرستی بھی کسی قدر ضرور ہے۔"      ( ١٨٨٠ء، فسانۂ آزاد، ٣٢٢:١ )

جنس: مؤنث